ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروارمیں جعلی ڈاکٹرکی کلینک پر چھاپہ ؛ آیورویدک کلنک میں الوپیٹھک دوائیاں

کاروارمیں جعلی ڈاکٹرکی کلینک پر چھاپہ ؛ آیورویدک کلنک میں الوپیٹھک دوائیاں

Mon, 22 Aug 2016 21:38:22    S.O. News Service

کاروار:22/اگست(ایس او نیوز)بیوی کے نام پر آیورویدک کلنک چلائی جارہی ہے ،لیکن ڈاکٹر اس کا شوہرہے۔کلینک ایورویدیک ہے، مگر کلنک میں  صرف انگریزی (الوپیتھک )دوائیوں پرمریضوں کا علاج کیاجارہا ہے، یہ سب کچھ کاروار تعلقہ کدرا پولس تھانے کے قریب جاری ایک اصلی کلنک کی سچی تصویر ہے۔ اتنا ہی نہیں ، پڑوسی ریاست گوا سےبھی مریضوں کو راغب کرنے والی متعلقہ کلنک پر ابھی تک مقامی پولس اور صحت عامہ کے افسران انجان اور خاموش ہیں، جس پر عوام نے تعجب کا اظہار کیا ہے۔

کلنک میں جعلی ڈاکٹر ہونے کی اطلاع پر ضلع میڈیکل افسران نےاتوار کو چھاپہ مارا تو پتہ چلا کہ بیوی کی کسی بی ایم ایس ڈگری پر یہاں شوہر علاج کرتے ہیں، جس کے ساتھ یہ بات منظر عام پر آئی کہ ڈاکٹرجعلی ہے۔  چھاپہ ماری کے دوران کلنگ میں صرف الوپیتھی دوائیاں ہی استعمال کرنے کا بھی پتہ چلا۔ دوائیوں کو ضبط کرکے ان کی جانچ کی گئی تو اس بات کا بھی انکشاف ہواکہ الوپیتھی دوائیاں ضرورت سے زائد پائور کی ہیں۔ اس طرح لوگوں کی صحت سے کھیل کر  پیسہ کمانے پر عوام نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جعلی ڈاکٹر ہونے کیاطلاع پاکر جن شکتی ویدیکے کے صدر مادھو نایک متعلقہ کلنک پہنچے اورڈاکٹرکو آڑے ہاتھوں لیا ، اس دوران یہ بھی پتہ چلا کہ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے اشوک راجپا شندھے نامی ایک ڈاکٹر کے پاس متعلقہ پیشہ کی کوئی ڈگری نہیں ہے ، بتایا جارہاہے کہ گذشتہ 10سالوں سے یہ کلنک جاری ہے، ڈاکٹر کہلانے والا صرف پی یو سی تک تعلیم حاصل کیا ہے، اپنی بیوی پروینا مورے کی آیورویدک ڈگر ی (بی اے ایم ایس) کی بنیاد پر کلنک میں جی میں جو آئے دوائیاں دئیے جانے کی بات کہی جارہی ہے۔ بیوی کے نام پر منظوری لے کر الوپیتھک دوائیاں دی جارہی تھیں۔ مادھونایک نے جب میڈیکل آفیسر کو اس کی خبر پہنچائی تو میڈیکل دفتر کے افسران نے کلنک پر چھاپہ مارا۔ افسران نے مختلف قسم کے 23دوائیاں اور گولیاں ضبط کرلی ہیں۔ ڈی ایس پی ، این ٹی پرمود راؤ اور کدرا سی پی آئی روی نائک اپنے عملے کے ساتھ کلنک پہنچ کر جائزہ لیا۔

اس دوران مزید تعجب کی بات یہ ہوئی کہ جب افسران کلنک پر چھاپہ ماررہے تھےتو مقامی کچھ عورتوں نے مخالفت شروع کردی اور بتایا کہ اُن کے علاقہ میں ڈاکٹروں کی قلت ہے، لہٰذا ڈاکٹر پروینا مورے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ مگر مادھو نایک نے خواتین کو سمجھایا کہ ان کی نادانی سے انہیں اور ان کے خاندان والوں کو کتنا نقصان پہنچے گا۔ ڈاکٹر جعلی ہونے کے باوجود روزانہ سیکڑوں مریض علاج کے لئے کلنک پہنچنے کی بات  کہی گئی ہے،غور کرنے والی بات ہے کہ یہاں علاج کے لئے پڑوسی ریاست گوا سے زیادہ مریض آتے ہیں۔


Share: